Posts

اصمعی کا قصہ

 قال الأصمعي: بينما كنت سائراً في البادية مررت بحجرٍ مكتوب عليه هذا البيت: ( امام اصمعی فرماتے ہیں میں کسی وادی سے گزر رہا تھا تو وہاں ایک چٹان پہ یہ شعر لکھا ہوا پایا ) *أيا مـعشر العُـشَّاق بالله خبروا*       *إذا حلَّ عشق بالفتى كيف يصنعُ* ( اے گروہِ عُشاق تمہیں الله کا واسطہ مجھے بتاؤ وہ نوجوان کیا کرے جسے عشق نے آ گھیرا ہو ) فكتبت تحته: ( فرماتے ہیں کہ میں نے اسکے نیچے یہ شعر لکھ دیا ) *يـداري هـواه ثـم يـكـتـم سـره*  *ويخشع في كل الأمور ويخضعُ* ( وہ اپنی خواہش ( نفس ) کا علاج کرے اور اپنے عشق کو چھپائے رکھے اور ہر معاملے میں ڈرتا رہے ) ثم عدت في اليوم الثاني فوجدت مكتوباً تحته: ( فرماتے ہیں میں اگلے دن لوٹا تو اس کے نیچے یہ شعر لکھا ہوا پایا ) *فكيف يُداري والهوى قاتل الفتى* *وفـي كـل يـومٍ قـلبـه يـتقـطعُ* ( وہ کیسے اپنے عشق کا علاج کرے حالانکہ یہ تو اسے قتل کرنے کے درپـے ھے اور ہر دن اسکا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ھے ) فكتبت تحته: ( فرماتے ہیں کہ میں نے اسکے نیچے یہ لکھ دیا ) *إذا لـم يـجـد صـبـرًا لـكـتـمـان* *فليس له شيءٌ سوى الموت أنفعُ* ( اگر وہ اپنے ...

ترجمۃ الحافظ العلامہ خادم حسین رضوی

 اسمه: العلامة الحافظ المحدث العاشق الواله للجناب النبوي شيخ الطريقة النقشبندية المجددية فضيلة الشبخ خادم حسين الرضوي الحنفي الماتريدي. ميلاده: ولد في الثالث من ربيع الاول عام ١٣٨٦ھ الموافق ل٢٢ يونيو ١٩٧٧م في حي أتك بإقليم بنجاب شرقي باكستان. حياته علمية:  حفظ الشبخ خادم حسين القرآن الكريم في صغر سنه بمدينة جهلم ثم إرتحل الي مدينة لاهور وإلتحق بالجامعة النظامية الرضوية حيث تلقي  العلوم الشرعية من العلماء اليارزين في عصره و زمانه. شيوخه: ١: فضيلة الشيخ المفتي قيوم الهزاروي ٢: فضيلة الشيخ المفتي عبد اللطيف النقشبندي ٣: فضيلة الشيخ العلامة عبد الحكيم شرف القادري ٤: فضيلة الشيخ العلامة محمد رشيد النقشبندي ٥: فضيلة الشيخ العلامة عبد الستار السعيدي اطال الله عمره ٦: فضيلة الشيخ العلامة محمد صديق الهزاروي رحمهم الله تعالي رحمة الأبرار.

لا ینسا

 ‏الأرض لا تنسى جباه الساجدين؛  والليل لا ينسى أنين العابدين... _________ زمیں سجدہ کرنے والوں کی پیشانیوں کو نہیں بھولے گی اور رات عبادت گزاروں کی آہ و زاری کو. 🖤
 موافقات عمر محدثین جب بھی اسلام کے دوسرے خلیفہ جناب عمر فاروق اعظم رضی الله عنه کی سیرت کا باب باندھتے ہیں تو اس میں ایک باب خصوصیت کے شامل کیا جاتا ھے " #موافقاتِ_عمر " اس سے کیا مراد ھے؟؟؟ اس کا مطلب یہ ھے کہ جناب عمر نے کبھی کوئی جملہ زبان سے ادا کیا، یا بارگاہ نبوی میں کوئی رائے پیش کی یا پھر کوئی کام کیا جس کی تائید میں رب کا کلام وحی کی صورت میں نازل ہو گیا. مثال کے طور پر  1: ایک بار جناب عمر رضی الله عنہ نے نبی پاک علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کی کہ یا رسول الله کیا ہم مقام ابراھیم کو مصلی نہ بنا لی؟ تو اس پہ رب کا قرآن نازل ہو گیا، وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ. ( سورۂ البقرہ 123 ) کہ مقام ابراھیم کو مصلی بنا لو. 2: اسی طرح آ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی؛ اگر ہم صفا و مروٰی کا طواف کریں تو ( کتنا اچھا ہوگا ) تو اس پہ یہ آیت قرآنی نازل ہوئی؛ اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَاؕ ( سورۂ البقرہ 158 ) بیشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں تو جو اس...

عشق رسول

 لو أن للمشاعر أصواتا لضج العالم بحب النبيﷺ. ___________________________________ اگر ( محبت بھرے )جذبات کی آواز ہوتی تو  سارا جہاں حضور جانِ عالَمﷺ کی محبت سے  گونج اُٹھتا. الشیخ محمد عدنان الدمشقی علیہ الرحمہ.

اچھے اخلاق

 لا تسخر من شخص حزين علي فراق أليفه فإنه  بالنسبة له أفضل من الدنيا كلها.😓💔 ______________________________________ کسی پیارے کی جُدائی پر غمزدہ شـخص کا مـذاق  نا اُڑاؤ کہ (بسا اوقات) وہ جُدا ہونے والا اسے ساری  دنیا سے زیادہ عزیز ہوتا ھے 🙂♥️.

مرتبہ عثمان غنی کا

 ♡ ••••••• مرتبہ عثمان غنی کا ••••••• ♡ جب حضرت عثمان کی زوجہ کا انتقال ہوا تو آپ زارو قطار رو رھے تھے تو، حضور علیه السلام نے ارشاد فرمایا: اے عثمان کیوں رو رھے ہو، عرض کی یا رسول الله؛ آپ سے میرا صھر (سسرالی رشتہ) منقطع ہو گیا اس وجہ سے رو رھا ہوں۔ تو رسول الله علیه السلام نے ارشاد فرمایا؛ الله کی قسم! اگر میری سو بیٹیاں ہوتی  اور ایک کے بعد ایک (تمہارے نکاح میں) فوت ہو جاتی  تو میں یکے بعد دیگرے سب کا نکاح تم سے کر دیتا۔ (ملا علي قارئ عليه الرحمه || مرقاۃ المفاتیح ج١١ ص٢٣١)

خوف خدا

 - أتعلم ما هو المخيف؟ أن يمدحكَ الناس شرقًا وغربًا.. - وأنت عند الله "لا شيء --!💔 _______________________ کیا جانتے ہو مقامِ ڈر کیا ھے😓 کہ مشرق و مغرب میں تمہارے چرچے ہوں اور الله کے ہاں تمہارا مقام رائی کے دانے کے برابر بھی نہ ہو