اصمعی کا قصہ

 قال الأصمعي: بينما كنت سائراً في البادية مررت بحجرٍ مكتوب عليه هذا البيت:


( امام اصمعی فرماتے ہیں میں کسی وادی سے گزر رہا تھا تو وہاں ایک چٹان پہ یہ شعر لکھا ہوا پایا )


*أيا مـعشر العُـشَّاق بالله خبروا*      

*إذا حلَّ عشق بالفتى كيف يصنعُ*


( اے گروہِ عُشاق تمہیں الله کا واسطہ مجھے بتاؤ وہ نوجوان کیا کرے جسے عشق نے آ گھیرا ہو )


فكتبت تحته:


( فرماتے ہیں کہ میں نے اسکے نیچے یہ شعر لکھ دیا )


*يـداري هـواه ثـم يـكـتـم سـره*

 *ويخشع في كل الأمور ويخضعُ*


( وہ اپنی خواہش ( نفس ) کا علاج کرے اور اپنے عشق کو چھپائے رکھے اور ہر معاملے میں ڈرتا رہے )


ثم عدت في اليوم الثاني فوجدت مكتوباً تحته:


( فرماتے ہیں میں اگلے دن لوٹا تو اس کے نیچے یہ شعر لکھا ہوا پایا )


*فكيف يُداري والهوى قاتل الفتى*

*وفـي كـل يـومٍ قـلبـه يـتقـطعُ*


( وہ کیسے اپنے عشق کا علاج کرے حالانکہ یہ تو اسے قتل کرنے کے درپـے ھے اور ہر دن اسکا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ھے )


فكتبت تحته:


( فرماتے ہیں کہ میں نے اسکے نیچے یہ لکھ دیا )



*إذا لـم يـجـد صـبـرًا لـكـتـمـان*

*فليس له شيءٌ سوى الموت أنفعُ*


( اگر وہ اپنے عشق کو چھپانے پہ صبر نہیں کر سکتا تو اسے موت کے علاوہ کوئی چیز فائدہ نہیں دے سکتی )


ثم عدت في اليوم الثالث فوجدت شابّاً ملقى تحت ذلك الحجر ميّتاً وقد كتب قبل موته:


( فرماتے ہیں میں تیسرے دن وہاں آیا تو اس نوجوان کو مردہ حالت میں پایا اور اس نے مرنے سے پہلے یہ شعر لکھا )


*سـمـعنا أطـعنـا ثم مـتنا فبلغوا*  

*سلامي إلى من كان للوصل يمنعُ*


( ہم نے سنا اور اطاعت کی اور مر گئے اب میرا سلام پہنچا دینا اسے جو وصلِ محبوب سے روکتا تھا )


فقال الأصمعی والله انا قتلته.


( تو اصمعی فرمانے لگے :

الله کی قسم اسے میں نے موت کے گھاٹ اتارا ھے )


✍️ : حماد رضا الجوزی

Comments

Popular posts from this blog

خوف خدا

اچھے اخلاق

ترجمۃ الحافظ العلامہ خادم حسین رضوی