موافقات عمر


محدثین جب بھی اسلام کے دوسرے خلیفہ جناب عمر فاروق اعظم رضی الله عنه کی سیرت کا باب باندھتے ہیں تو اس میں ایک باب خصوصیت کے شامل کیا جاتا ھے " #موافقاتِ_عمر " اس سے کیا مراد ھے؟؟؟


اس کا مطلب یہ ھے کہ جناب عمر نے کبھی کوئی جملہ زبان سے ادا کیا، یا بارگاہ نبوی میں کوئی رائے پیش کی یا پھر کوئی کام کیا جس کی تائید میں رب کا کلام وحی کی صورت میں نازل ہو گیا.


مثال کے طور پر 

1: ایک بار جناب عمر رضی الله عنہ نے نبی پاک علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کی کہ یا رسول الله کیا ہم مقام ابراھیم کو مصلی نہ بنا لی؟

تو اس پہ رب کا قرآن نازل ہو گیا،

وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ.

( سورۂ البقرہ 123 )

کہ مقام ابراھیم کو مصلی بنا لو.


2: اسی طرح آ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی؛

اگر ہم صفا و مروٰی کا طواف کریں تو ( کتنا اچھا ہوگا )

تو اس پہ یہ آیت قرآنی نازل ہوئی؛

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَاؕ

( سورۂ البقرہ 158 )

بیشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے.

3: ایک بار ابن صوریا جو کہ کافر تھا کہنے لگا ہم جبریل کے دشمن ہیں اگر تمہارے نبی کے پاس میکائیل وحی لے کر آتے تو ہم کلمہ پڑھ لیتے تو اس پر جناب عمر نے ارشاد فرمایا؛

من كان عدوا للّٰهِ و ملىٕكَتهٖ وَ رسُلهٖ وَ جبرِیْل وَ میكىلَ فَاِنَّ اللهَ عَدُوٌّ للکافرِینَ.


آپ رضی الله عنه نے اس کافر کو جواب دیا ادھر حضرت جبریل امین تشریف لے آئے اور یہی جملہ آیت قرآنی بن کر نازل ہوا؛

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ

( سورۂ البقرہ 98 )

جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا۔


اور ان موافقات کی تعداد تقریبا 20 یا اس سے بھی زیادہ ھے اور یہ عنوان خاص حضرت عمر رضی الله عنہ کی سیرت میں بیان کیا جاتا ھے آپ کے علاوہ کسی اور صحابی رضی اللہ عنہ کی سیرت میں باقاعدہ موافقات بیان نہیں کی جاتی.


عمر کافی نبی کو حَسبُك الله سے یہ ثابت ھے

ھے شاید جن پہ قرآں حضرت فاروقِ اعظم ہیں


حماد رضا الجوزی

29-07-2022ء

Comments

Popular posts from this blog

خوف خدا

اچھے اخلاق

ترجمۃ الحافظ العلامہ خادم حسین رضوی